نور الثقلین

پست های وبلاگ نور الثقلین از سایتهای وبلاگی با ذکر منبع به صورت خودکار بازنشر شده و در این صفحه نمایش داده شده است. در صورتیکه این اطلاعات دارای محتوای نامناسب بوده و یا دارای هر گونه تخلف میباشد بر روی گزینه ‘درخواست حذف’ کلیک نمائید

مجلس وحدت مسلمین پا تان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی ہدایات پر ف ملت تشیع،
آباد( )مجلس وحدت مسلمین پا تان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی ہدایات پر ف ملت تشیع،بانی پا تانقائد اعظم محمد علی جناح کے 68واں یوم وفات کو 

ایم ڈبلیو ایم نیملک بھر میں پورے عقیدت و احترام کے ساتھ منایا ۔جماعت کے مختلف صوبائی و ضلعی دفاتر میں قرآن خوانی اور مجالس کا بھی اہتمام کیا گیا۔ مجلس وحدت مسلمین سندھ کے رہنماوں علامہ مقصود ڈومکی،علامہ مختار ی اور کی قیادت میں اعلی سطح وفد نے مزار قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔اس موقعہ پربرصغیر پاک و ہند کے اس عظیم رہنما کو اج عقیدت بھی پیش کیا گیا۔مرکزی سیکرٹریٹ آباد سمیت جماعت کے دیگر صوبائی و ضلعی دفاتر میں اس عظیم قائد کو اج تحسین پیش کرنے کے لیے تقاریب بھی منعقد کی گئیں جہاں قائد اعظم کی زندگی کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی گئی۔اس موقعہ پر علامہ ناصر عباس جعفری نے اپنے پیغام میں کہا کہ پا تان قائد اعظم محمد علی جناح کے حقیقی پا تان کی تکمیل ہی ساری مشکلات سے نجات کا واحد ذریعہ ہے۔قائد نے جس پا تان کے قیام کے لیے ایک طویل جدوجہد کی ہمارا مطالبہ بھی اسی پا تان کا قیام ہے۔ قائد کے پر بصیرت افکار اور دانشمندانہ فرمودات پر اگر آج عمل کیا جاتا تو ملک اس طرح ان گنت بحرانوں میں نہ جھکڑا ہوتا۔ہر طرح کے خارجی اثرات سے آزاد ایسی ریاست قائد اعظم کا خواب تھا جہاں مسلمانوں کو کے اصولوں کے مطابق آزادنہ زندگی گزارنے کے مواقع میسر ہوں۔جہاں اقلیتوں کو ہر طرح کا تحفظ ملے۔ گزشتہ تین عشروں سے جاری دہشت گردی کے واقعات قائد کے نظریاتی و فکری پا تان کو تباہ کرنے کی کوشش ہے۔جس ی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔اس ارض پاک کوان تکفیری گروہوں سے چھٹکارا دلانا ہو گا جو اس ملک کو مخصوص مسلک کی سٹیٹ بنا کر باقی سب کو لادین ثابت کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قائد اعظم ایک مخلص اور قوم کا حقیقی درد رکھنے والے رہنما تھے۔ برصغیر کے مسلمانوں کی علحیدہ ریاست کے لیے انہوں نے ایک طویل جنگ لڑی اور اپنے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے الگ وطن حاصل کیا۔ ہمارا یہ وطن قائد کی عظیم جدوجہد اور لاکھوں قربانیوں کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا۔ہمیں اس کی حفاظت کرنے کے لیے اسی درد اور اخلاص کے ساتھ تگ و دو کرنے کی ضرورت ہے۔قائد اعظم کے بتائے ہوئے رہنما اصولوں پر کاربند رہنے سے ہم معاشرے میں باوقار مقام حاصل کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں مل کر تجدید عہد کرنا ہو گا کہ اس مٹی سے ہمارا عشق مرتے دم تک قائم رہے گا ۔

عنوان وبلاگ : نور الثقلین
برچسب ها : مجلس وحدت مسلمین پا تان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی ہدایات پر ف ملت تشیع، - قائد ,پا تان ,اعظم ,کرنے ,علامہ ,ہمارا ,قائد اعظم ,مجلس وحدت ,ناصر عباس ,وحدت مسلمین ,عباس جعفری ,وحدت مسلمین پا تان
مجلس وحدت مسلمین پا تان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی ہدایات پر ف ملت تشیع، قائد ,پا تان ,اعظم ,کرنے ,علامہ ,ہمارا ,قائد اعظم ,مجلس وحدت ,ناصر عباس ,وحدت مسلمین ,عباس جعفری ,وحدت مسلمین پا تان
اربعین حسین علیہ السلام میں شرکت کے لئے روانگی
اربعین حسین علیہ السلام میں شرکت کے لئے عراق کے دور ترین علاقوں سے عزاداروں کے پہلے گروپ نے پیدل کربلا کی جانب اپنا سفر باقاعدہ شروع کر دیا ہے۔

ہر قوم و قبیلے اور ہر رنگ و نسل کے عاشقان حسین نے اپنی نگاہیں کربلا کی جانب مرکوز کرلی ہیں اور اس روایت کو برقرار رکھنے کے لئے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے۔ عراقی شہری اور دوسرے ممالک کے باشندے بصرہ اور عراق کے دیگر جنوبی شہروں سے نکل کر کربلا کا رخ کر چکے ہیں۔



ورٹوں کے مطابق جگہ جگہ پر زائرین حسین(ع) کے آرام کے لئے خیمے لگائے گئے ہیں اور موکبوں، مساجد حتی کہ ذاتی مکانات میں اہل بیت رسول(ص) کے عقیدتمندوں کی پذیرائی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اربعین کے مارچ میں مراجع تقلید کے نمائندوں، مذہبی رہنماؤں اور عراق کے علاقائی اور قومی عہدے داروں نے بھی بھ ور طریقے سے شرکت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران کے مختلف شہروں اور قصبوں سے بھی حسین علیہ السلام کے عقیدتمندوں نے کربلا کی جانب اپنا سفر شروع کر دیا ہے۔ زائرین کی کثیر تعداد یہ سفر پیدل طے کر رہی ہے۔

اس موقع پر ایران کی پولیس کے اعلی عہدے داروں نے بھی اعلان کیا ہے کہ سرحدوں پر زائرین کے لئے انتظامات مکمل ہو چکے ہیں اور ایرانی اور غیرملکی زائرین کو سہولت فراہم کرنے کے لئے خصوصی ہدایات فراہم کی جا چکی ہیں۔

پا تان سے هزارون کی تعداد مین زایرین ایران کے ۔

 راستے  کربلا معلی پنح ره رے  هین 

عنوان وبلاگ : نور الثقلین
برچسب ها : اربعین حسین علیہ السلام میں شرکت کے لئے روانگی - کربلا ,حسین ,زائرین ,جانب ,عراق ,السلام ,علیہ السلام ,حسین علیہ , حسین ,عہدے داروں ,جانب اپنا
اربعین حسین علیہ السلام میں شرکت کے لئے روانگی کربلا ,حسین ,زائرین ,جانب ,عراق ,السلام ,علیہ السلام ,حسین علیہ , حسین ,عہدے داروں ,جانب اپنا
یران کے اہل سنت و الجماعت کا پہلا قافلہ زیارت اربعین کے لیے عراق روانہ

ایران کے اہل سنت والجماعت کا ایک قافلہ اربعین حسینی کے جلوس میں شرکت کے لیے عراق کی طرف روانہ ہو گیا۔
تفصیلات کے مطابق، ایران کے صوبہ سیستان اور بلوچستان اور گلستان سے تعلق رکھنے والے اہل سنت و الجماعت کے علماء اور سماجی فعال سرگرم افراد عراق میں اربعین حسینی کے موقع پر پیدل مارچ کرنے والے جم غفیر میں شرکت کرنے کی غرض سے ’’ امت محمد(ص)‘‘ نامی قافلہ کی صورت میں عراق روانہ ہو گئے ہیں۔

عنوان وبلاگ : نور الثقلین
برچسب ها : یران کے اہل سنت و الجماعت کا پہلا قافلہ زیارت اربعین کے لیے عراق روانہ - عراق ,روانہ ,اربعین ,قافلہ ,عراق روانہ ,اربعین حسینی
یران کے اہل سنت و الجماعت کا پہلا قافلہ زیارت اربعین کے لیے عراق روانہ عراق ,روانہ ,اربعین ,قافلہ ,عراق روانہ ,اربعین حسینی
لبیک یا حسین سفرمعنوی بسوی کربلا معلی
سوئے حسین (ع)لاکھوں وہ ہیں جو نجف سے کربلا، بغداد سے کربلا، بصرہ سے کربلا، ایران سے کربلا، بحرین سے کربلا، لبنان سے کربلا، شام سے کربلا، پا تان سے کربلا، افغانستان سے کربلا، آذربائیجان سے کربلا، یو سے کربلا، افریقا سے کربلا، آسٹریلیا سے کربلا، امریکا سے کربلا کی جانب گامزن ہیں اور کروڑوں وہ ہیں جو اس سفر کی آرزو دل میں بسائے غم زدہ ہیں۔ میری نظر میں یہ سفر درحقیقت سوئے کربلا نہیں بلکہ سوئے حسین (ع) سفر ہے۔ وہ لوگ جو یہ سفر کر رہے ہیں ان پر رشک آتا ہے۔ میرے کئی دوست گذشتہ چند دنوں میں مجھے خدا حافظ کہہ کر اس سفر پر روانہ ہوئے ہیں۔ ہر دوست کی روانگی نے دل کو تڑپا دیا، رشک ہوا ان افراد کے نصیب پر کہ نواسہ رسول (ص) نے ان احباب کو اپنی زیارت کے لئے بلایا ہے۔ یہ سفر زیارت جو خصوصی طور پر اربعین حسینی کے موقع پر کیا جاتا ہے، صدیوں سے جاری ہے اور اب تو ایک باقاعدہ ثقافت کا رنگ اختیار کرچکا ہے۔ ہزاروں میل کا سفر طے کرکے سرزمین عراق پر پہنچنے والے زائرین کربلا کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ نجف سے کربلا تک کا سفر جو تقریباً اسی کلومیٹر ہے، پیدل طے کریں۔ جی ہاں پا تان، لبنان، بحرین، افغانستان، شام، امریکا، یو ، افریقا اور آسٹریلیا سے آنے والے بہت سے زائرین نجف سے کربلا پیدل چل کر جاتے ہیں۔
 
اسی کلو میٹر پیدل سفر کوئی عام بات نہیں ہے، ہم میں سے بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جنہوں نے ایک ہی دن میں تیس سے چالیس کلو میٹر کا سفر پیدل کیا ہو۔ اس سفر کے لئے گھنٹوں درکار ہیں، ایک دو مرتبہ مجھے تقریباً تیس کلو میٹر پیدل چلنے کا اتفاق ہوا ہے۔ یہ سفر میں نے گرمی اور سردی دونوں موسموں میں کئے۔ گرمی میں اس سفر نے تو مجھے تقریباً ادھ موا کر دیا، تاہم سردی میں یہ سفر اتنا شدید نہ تھا، بہرحال آسان بھی نہ تھا۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ کیسے مرد، یں، بچے اور بوڑھے ایک سو بیس کلومیٹر پیدل چلتے ہوں گے۔ عراق میں تو روایت ہے کہ ہر سال اکثر عراقی اربعین کے موقع پر پیدل چل کر کربلا جاتے ہیں۔ گرمی، سردی، دھماکے، دہشت گردی کچھ بھی اس سفر کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتا۔ اتنے لوگ پیدل کربلا کیوں جاتے ہیں اور کروڑوں یہ آرزو دل میں کیوں بسائے ہوئے ہیں؟ کیا عراق اور وہاں موجود عتبات دیکھنے کا شوق انھیں کربلا لے جاتا ہے؟ کیا فقط ثواب؟ کیا جنت کا لالچ۔؟
 
ہر انسان کے پاس اس سفر کی اپنی وجہ ہوسکتی ہے، میری نظر میں اس سفر کا بنیادی سبب خود حسین علیہ السلام ہیں۔ قارئین کرام! بعض قلبی کیفیات کو بیان کرنا قلم کے بس میں نہیں ہوتا۔ ان کیفیات کو بیان کرنے کے لئے ہمیں مثالوں کا سہارا لینا پڑتا ہے، تاکہ ذہن کو اس قلبی واردات سے قریب تر کیا جاسکے، جس سے انسان گزر رہا ہوتا ہے۔ محبت اور عشق انسان کا خاصہ ہے اور نہایت فطری ہے۔ خدا نے انسان کو کمال کا شیدا پیدا کیا ہے۔ وہ جس شے میں بھی کمال دیکھتا ہے، اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ خوبصورت پھول دیکھا تو اس کی جانب لپک گیا، خوبصورت منظر دیکھا تو گھنٹوں اس میں محو رہا، خوبصورت بات سنی تو ہمہ تن گوش ہوگیا۔ حسن و کمال اسے اپنی جانب کھینچتا ہے۔ بعض اوقات یہ کشش اس قدر شدید ہو جاتی ہے کہ انسان اپنا وجود بھلا بیٹھتا ہے، اسے اپنے مطلوب جو حسن حقیقی کا مظہر بن کر اس کے قلب و ذہن میں جلوہ گر ہوچکا ہے، کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ بس اس کو پانے یا اس کا ہو جانے کی دھن۔ 

جب عشق سر چڑھ کر بولنے لگے تو پھر کمال کا یہ شیدائی اہل د کو اجنبی سا لگنے لگتا ہے۔ اس کے کام، اس کی حرکات سب عجیب سی لگتی ہیں۔ بھلا پیدل جانے کی کیا ضرورت ہے، جب گاڑیاں اور دیگر سفری سہولیات دستیاب ہیں۔ اربعین پر ہی کیوں، سال میں ی ایسے وقت جاؤ جب وہاں رش نہ ہو۔ اگر جانا ہی ہے تو بچوں اور خواتین کو کیوں لے جاتے ہو؟ سیاہ لباس کیوں پہنتے ہو؟ دیوانوں سی ح کیوں بنا رکھی ہے؟ طرح طرح کے سوالات، طرح طرح کی باتیں۔ بابا تم حسین (ع) کو کیا سمجھتے ہو؟ کیا تم نے کبھی حسین (ع) کو حسن حقیقی کی جلوہ گاہ کے طور پر دیکھا ہے؟ حسین (ع) فقط ایک مذہبی راہنما یا لیڈر ہوتا تو قطعاً وہ نہ کرتا جو اس نے کربلا میں کیا۔
 
حسین (ع) نے کمال ازلی اور حسن حقیقی کا نظارہ اپنے نانا کی گود میں بیٹھ کر کیا۔ وہ نانا جو اس کمال ازلی کا شاہد اور نمائندہ تھا۔ حسین (ع) بچپن سے ہی عاشق حسن حقیقی تھا۔ اپنے محبوب کی رضا کے لئے حسین (ع) نے اپنا سب کچھ، اپنی کل متاع قربان کر دی، تاکہ اس کا محبوب اس سے راضی ہو جائے اور حسین (ع) کے ساتھی اس سفر میں پورے شعور کے ساتھ ان کے ہمراہ تھے۔ حسین (ع) اور ان کے ساتھی محبوب حقیقی کی رضا کے لئے عشق حقیقی کے رنگ میں یوں رنگے گئے کہ اب جب کوئی حسین (ع) سے محبت کرتا ہے تو وہ درحقیقت حسین (ع) سے نہیں بلکہ حسن حقیقی سے محبت کر رہا ہے۔ جی ہاں، حسین (ع) مکتب عشق کا سرخیل ہے۔ حسین (ع) آئینہ حق ہے۔ حسین (ع) کی جانب سفر ی انسان کی جانب سفر نہیں بلکہ اس کی جانب سفر ہے، جس کے لئے حسین (ع) نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔
 
یہ سفر حسین (ع) نہیں بلکہ حسن ازلی کی جانب ہے، کمال کی جانب ہے۔ دوسرے سفروں اور اس سفر میں فرق یہ ہے کہ یہ شوق کا سفر ہے، اس میں ثواب کا لالچ یا عذاب کا خوف نہیں بلکہ عشق ہے۔ جنون ہے۔ تبھی تو دھماکے، دہشت گردی، سفری صعوبتیں معنی نہیں رکھتیں۔ یہ احساس ہر وقت انسان کو سرگرم رکھتا ہے کہ میری منزل حسین (ع) کا وصال یعنی حسن ازلی کا وصال ہے۔ اے اللہ! ہم سب کو اپنے محبوب بندے حسین (ع) کا عشق عنایت فرما۔ ہمیں سوئے حسین (ع) سفر کی توفیق عنایت فرما اور ہمیں ان کا وصال نصیب فرما۔ (آمین)

تحریر: سید اسد عباس تقوی

عنوان وبلاگ : نور الثقلین
برچسب ها : لبیک یا حسین سفرمعنوی بسوی کربلا معلی - حسین ,کربلا، ,کربلا ,نہیں ,پیدل ,جانب ,نہیں بلکہ ,کمال ازلی ,اپنے محبوب ,دھماکے، دہشت ,مجھے تقریباً
لبیک یا حسین سفرمعنوی بسوی کربلا معلی حسین ,کربلا، ,کربلا ,نہیں ,پیدل ,جانب ,نہیں بلکہ ,کمال ازلی ,اپنے محبوب ,دھماکے، دہشت ,مجھے تقریباً
آزادی اور استبداد کے ساتھ جنگ کی راہ کا مجاہد

 

معلوم ہوتا ہے کہ شاہ سلمان کے کچھ مشاور امین اور عقلمند بھی ہیں جو اس کو نصیحت کریں گے کہ اس شیخ مجاہد کو موت کی سزا دینے کے نتائج خطر ناک ہو سکتے ہیں اور اس کا خون بہانا کوئی معمولی اقدام نہیں ہو گا اور اس کے نتائج کے بارے میں پہلے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔      

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی ورٹ کے مطابق شیخ نمر کی شہادت سعودی عرب کی تبدیلیوں میں ایک تازہ تیز موج کا اضافہ کرے گی اور اس ح کے چلتے ان کی سزائے موت نہ صرف الشرقیہ کے تیل پیدا کرنے والے علاقے کو ایک شاک لگائے گی بلکہ اس ملک کے تمام علاقوں کے امن و ثبات کو اس سے خطرہ لاحق ہو جائے گا اور ملک فہد اور عبد اللہ کے دور کا امن اس ملک میں نہیں رہے گا ۔

شرقیہ کے علاقے کے تمام شہر اور دیہات شیخ نمر کو پہچانتے ہیں ،اور عوامیہ ،قطیف اور احساء کے لوگ ان کے نیک اخلاق اور ان کی اچھی خصلتوں سے مانوس ہو گئے ہیں ۔ اس شیخ مجاہد نے اپنے علاقے کے لوگوں کے درمیان زندگی بسر کی ہے اور ان کے دکھ درد کو وہ نزدیک سے جانتا ہے وہ کہ جس نے زندگی کی الف ، ب اور جہاد کو مکتب اہل بیت سے سیکھا ہے ۔اور اس نے جہاد کے مراحل اور طور طریقے اور آزاد اور با کرامت زندگی کو اچھی طرح یاد کیا ہے ۔

اگر آپ شرقیہ کے علاقے کے ایک ایک شخص سے ان کے خصایل اور جہادی طریقے کے بارے میں پوچھیں تو سبھی ایک زبان ہو کر کہیں گے کہ شیخ نمر ،خلیج فارس کی دوسری جنگ میں عراق اور سعودی عرب کی سر حد پر صدام کے حملے کے مقابلے میں ایک زبر دست م ع تھے اور صدام کی وسعت طلبی کی پالیسی کے سخت خلاف تھے اور اس کی مذمت کرتے تھے اور شرقیہ کے جوانوں کو صدام اور اس کے ی کے خلاف جہاد کی دعوت دیتے  تھے اپنے ملک اور علاقے میں امریکی فوجوں کی مداخلت کو ملک کی سلامتی اور اس کے مفادات  کے خلاف سمجھتے تھے ،اور داخلی استبداد،دھر پکڑ اور مطاوعہ کے ادارے کے کھل کر خلاف تھے ۔

شیخ نمر  کویہ دیکھ کر کہ  علاقے کے رہنے والے اور شہری فقر و رنج کی ح میں زندگی بسر کر رہے ہیں  دکھ ہو تا تھا اس لیے کہ شرقیہ کا علاقہ تیل کے کنووں کے اوپر ہے اور امریکہ کی آرامکو نے اپنی تمام تیل اور پیٹروشیمی کی تنصیبات کو اس علاقے کے شہروں اور دیہاتوں میں  قائم کر رکھا ہے ۔

یہ شیخ ہمیشہ ظلم ،اور حزبی اور علاقائی تعصب کے خلاف بر سر پیکار رہے ہیں اس لیے کہ جب وہ دیکھتے تھے کہ شرقیہ کے علاقے کے شیعوں کو دوسرے تیسرے درجے کے شہری مانا جاتا ہے تو ان کو سخت تکلیف ہوتی تھی جزیرہ نمائے عرب میں شیعوں کی بہت بڑی آبادی ہے لیکن قبایلی استبداد کے سائے میں وہ اپنی شان سے اور انسانی کرامت سے پست ح میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔

شیخ نمر اور ان کے ماننے والے اس سر زمین کے ایک اصلی شہری کے حقوق پر قانع ہیں اور ان کا یہ عقیدہ ہے کہ قطیف واحساء کے شیعہ اصلی شہری ہیں اور اپنی سر زمین کے دفاع کے پابند ہیں اور وہ ایک شریف شہری کی طرح اپنے وطن ، اور طایفے کی خدمت کے لیے جد و جہد کر سکتے ہیں ۔

جو چیز شرقیہ کے شیعوں کو آزار پہنچاتی ہے وہ گروہی اور مذہبی تعصب اور استبداد ہے اور وہ ہمیشہ پوچھتے ہیں کہ کیوں ان کی مسجدوں پر اور القاعدہ کے خود کش حملے ہوتے ہیں ،اور کیوں حرمت والے مہینوں میں کہ حتی زمانہء جاہلیت کے عرب بھی ان کا احترام کرتے تھے اور ان میں وہ جنگ و جدال نہ کرنے کے پابند تھے لیکن اب جب کہ کی حکومت ہے شیعوں کا خون ماہ رمضان اور محرم میں اور وہ بھی مساجد میں مباح ہو جاتا ہے ؟

شیخ نمر اور دوسرے شیعہ اس امتیازی سلوک اور مظالم کا جواب چاہتے تھے ۔ حکومت سے پوچھا جا نا چاہیے کہ شیخ نمر اور ان جیسوں کا گناہ کیا ہے ؟ انہوں نے جرم کا ارتکاب کیا ہے کہ انہیں موت کی سزا دی جائے ؟ آیا سر زمین وحی و حریت میں پر امن اعتراض کر نا سزائے موت کا باعث بنتا ہے ؟

ریاض اچھی طرح جانتا ہے کہ شیخ نمر معمولی آدمی نہیں ہے بلکہ دنیائے شیعہ اور عوام کے نزدیک ان کا رتبہ بہت بڑا ہے شرقیہ کے علاقے میں بھی ان کے بہت سارے دوست اور چاہنے والے ہیں ۔اور عوامیہ اور قطیف کے بھی بہت سارے جوانوں نے ان کے مکتب میں حریت اور با کرامت زندگی بسر کرنے کا سلیقہ سیکھا ہے ۔

ان کی سزائے موت پر عمل کیے جانے کے بارے میں ایرانی حکام اور مراجع نے ریاض کو نصیحت کی ہے عالم تشیع کے دوسرے برجستہ افراد اور علماء نے بھی نصیحت کی ہے ۔ نجد ، حجاز اور دوسرے علاقوں میں بھی حکماء اور آزاد منش  عقلاء نے   اس ظالمانہ حکم کو عملی جامہ نہ پہنانے کے سلسلے میں وساطت اور نصیحت کی ہے ، ملک فہد اور عبد اللہ کے زمانے کی حکومتوں نے بہت کچھ دیا ہے تا کہ شرقیہ کے علاقے کو پر امن رکھ سکیں  اور بہت سارے جوانوںکو قانع کر کے انہیں  سر زمین وحی و نبوت  پر پر امن زندگی بسر کر نے کو کہہ سکیں۔

لیکن ملک  سلمان  بن عبد العزیزکی حکومت کہ جو اس شیخ مجاہد کو موت کی سزا دینے پر اصرار کر رہی ہےیہ سعودی خاندان کے ملوکانہ قواعد کے سے ہٹ کر عمل کر رہی ہے،اس لیے کہ یہ خاندان کہ جو خود کو خادم الحرمین کہتا ہے ،یہ دینی اور قرآنی علوم کے طلاب اور مشایخ کو موت کی سزا نہیں دیتا چاہے وہ مخالف اور دشمن ہی کیوں نہ ہوں ،ملک سلمان کی حکومت اچھی طرح جانتی ہے ؛

الف ۔ شیخ نمر الشرقیہ کے عوام کے درمیان بہت مقبول ہیں اور ان کے ماننے والے جوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے ۔

ب ۔ ایک بے گناہ شیعہ عالم کو موت کی سزا دینے کا عالم تشیع میں شدید رد عمل ہو گا ۔

ج ۔ شیخ نمر کی شہادت سعودی عرب کی تبدیلیوں کو تازہ موج پر سوار کر دے گی   اور اس ح کے چلتے ان کی سزائے موت نہ صرف الشرقیہ کے تیل پیدا کرنے والے علاقے کو ایک شاک لگائے گی بلکہ اس ملک کے تمام علاقوں کے امن و ثبات کو اس سے خطرہ لاحق ہو جائے گا اور ملک فہد اور عبد اللہ کے دور کا امن اس ملک میں نہیں رہے گا ۔

د ۔ سعودی عرب اس دور میں زبر دست مشکلات کا شکار ہے اور اپنی بقاء کے لیے ہاتھ پیر مار رہا ہے لہذا اس شیخ کی موت کی سزا کے حکم پر عمل کرنا اس کے لیے عاقلانہ اقدام نہیں ہو گا ۔

بعض ورٹوں میں آیا ہے کہ واشنگٹن کے کچھ حکام نے سعودیوں سے ملاقات کر کے شیخ نمر کو موت کی سزا دیے جانے کے سلسلے میں ان سے بات کی ہے اور انہیں ایسا نہ کرنے کی نصیحت کی ہے اور ان بگڑے ہوئے حالات میں شیخ کو موت کی سزا دیے جانے کو غلط اقدام قرار دیا ہے ۔لیکن ملک سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان   دفاع  کے کچھ مشاورین نے کہ جو صہیونی حکومت کے  پرانے دوست ہیں وہ اس حکم کے اجراء پر اصرار کر رہے ہیں اور اس اقدام کے نتائج کو انہوں نے ایران اور شیعوں کے خلاف ایک کامی قرار دیا ہے ۔لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاہ سلمان کے کچھ مشاور امین اور عقلمند بھی ہیں جو اس کو نصیحت کریں گے کہ اس شیخ مجاہد کو موت کی سزا دینے کے نتائج خطر ناک ہو سکتے ہیں اور اس کا خون بہانا کوئی معمولی اقدام نہیں ہو گا اور اس کے نتائج کے بارے میں پہلے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔      

عنوان وبلاگ : نور الثقلین
برچسب ها : آزادی اور استبداد کے ساتھ جنگ کی راہ کا مجاہد - علاقے ,نہیں ,شرقیہ ,والے ,زندگی ,نصیحت ,اقدام نہیں ,تمام علاقوں ,والے علاقے ,خطرہ لاحق ,کرامت زندگی ,کوئی معمولی اقدام
آزادی اور استبداد کے ساتھ جنگ کی راہ کا مجاہد علاقے ,نہیں ,شرقیہ ,والے ,زندگی ,نصیحت ,اقدام نہیں ,تمام علاقوں ,والے علاقے ,خطرہ لاحق ,کرامت زندگی ,کوئی معمولی اقدام
خلیجی ممالک کاامریکی غلامی پر جہگڑا؟
ایک عرصے سے قطر یہ دعوی کررہا ہے کہ وہ ت کا اصل مرکز سعودی عرب نہیں بلکہ قطر ہے اُسی دن سے سعوی عرب اور قطر کے درمیان اختلافات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع  ہوگیا ہے۔ اماراتی شھزادے بهی ی سے پیچھےنھیں۔بلکه ان کا کام مشکل اس وجہ سے ھے کہ انہوں نے دو اقاووں کو خوش کرنا ھوھے آمریکہ کو اور نام نھاد سعودی بادشاہوں کوبہی خوش کرنا ھوتا ھے۔

سعودی عرب کو وہ ت سے فوائد حاصل کرنے کا علم ہے اس لئے اس کو خوف ہے کہ کہیں قطر کا خواب پورا نہ ہو اور سعودی عرب کے بجائے قطر ہی وہ ت کا مرکز نہ بن جائے کیونکہ سعودی عرب نے وہ ت کو امریکہ کی خدمت حاصل کرنے کے لئے اوزار کے طور پر استعمال کیا ہے اور آل سعود نے اپنی حکومت مستحکم کرنے اور مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے حوالے سے بھی اور جزیرة العرب کے قدرتی وسائل بالخصوص تیل کی ت پر قبضہ کرنے کے حوالے سے بھی، وہ ت سے بے انتہا فوائد حاصل کئے ہیں۔ آل سعود نے مختلف ملکوں میں اپنے ہی پروردہ وہ وں کے ذریعے اپنی اہمیت کا سکہ جمایا ہے اور حقیقی کے پیروکاروں کو ان ہی وہ وں کے ذریعے راستے سے ہٹا کر امریکی مفادات کا راستہ صاف کیا ہےجیسا کہ پا تان،عراق، شام، مصر، بحرین، آذربائیجان وغیرہ میں ان ہی سعودی ریالات اور امریکی ڈالروں پر پلنے والے وہ وں اور سلفیوں کو استعمال کیا ہے۔ سعودی عرب نے وہ ت کے ذریعے امریکہ و کی جو سب سے بڑی خدمت انجام دی وہ افغانستان میں / القاعدہ کی حکومت کے قیام سے عبارت تھی جس کے بعد مسلمانان عالم پر غموں اور مصیبتوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا اور جو تاحال جاری وساری ہے۔

اور جب دیکھ لیا کہ ایران کے مقابل میں سوریا میں ش ت سے دوچار ھورھاھے تو یمن کے عوام پرچہڑھاٰیی کر لی ایک سال ھوگیا لیکن اپنے اھ تک نہ پنچ سکا ۔لہذا مسافرحاجیوں کوح احرام میں قتل کرکے اپنے شوم اہ تک پہنچنے کی کوشیش کی۔

 ٹھیک ہے کہ وہ ت ایک مسلک کا نام ہے جسے برطانوی جاسوس ہمپرے محمد بن عبدالوہاب نجدی کے ساتھ مل کروجود میں لایا تھا۔ لیکن اصل میں یہ ایک مسلک سے زیادہ طاغوت و استعمارکی خدمت کے لئے ایک تنظیم ہے جس کی سب سے بڑی ذمہ داری ی عقائد کو بگاڑ کر کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا ہے۔ اس گروہ نے پہلے پہل برطانوی سامراج کی بھ ور خدمت کی اوراب امریکی و صہیونی غلامی میں کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ امریکہ جب بھی ی ملک میں اپنے مفادات کے بچاؤ کے لئےکوئی قدم اُٹھانا چاہتا ہے یا ی ملک میں نا امنی پھیلا کر اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتا ہے اس ملک میں آل سعود  کے آلہ کاروں کے ذریعے قتل وغارت کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کردیتا ہے۔ اس کی زندہ مثال پا تان، عراق اور شام لبنان اوریمن  ہیں جہاں ٹارگٹ کلنگ بم دھماکوں  اورجنگی حملوں کا بازار گرم ہے۔ان سب حقائق سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی و صہیونی و سعودی مفادات کیلئے وہ ت کی کتنی ضرورت ہے اور پھر سعودی عرب کا تو وجود ہی وہ ت پر قائم ہے اور جس دن سعودی عرب میں وہ ت کی جڑیں کمزور ہونگی اور وہ ت کا مرکز یعنی امریکی مفادات کا مرکز سعودی عرب کے بجائے قطر جیسے ملک میں منتقل ہوگا اُسی دن سے سعودی عرب کی بقا خطرے سے دوچار ہوسکتی ہے۔سعودی عرب اور قطر میں وہ ت کی مرکزیت پر ایک سرد جنگ کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ جس میں مرکزی کردار امریکہ اداکررہا ہے کیونکہ امریکہ اب گویا اپنے مفادات کے حصول کیلئے سعودی عرب کے بجائے قطر کو استعمال کرنا چاہتا تھا کیونکہ سعودی عرب کو اب بیشتر مسلم ممالک کے عوام جان گئے ہیں کہ آل سعود کی حکومت کی خیرخواہ نہیں ہے بلکہ کے جڑیں کاٹنے پر مأمور ہے لہذا اس سے پہلے کہ ی ممالک میں سعودی عرب کے خلاف آواز اٹھے امریکہ نے اپنے لئے ایک متبادل ایجنٹ کا انتظام شروع کررکھا ہے۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں محمد بن عبدالوہاب کے نام پر بڑی مسجد کی تعمیر، مسجد کے افتتاح کے موقع پر قطر حمد بن خلیفہ کا خطاب اور فروغ وہ ت پر تاکید، قطر اورقطری خارجہ کی جانب سے سعودی عرب پر قبضہ کرنے کی خواہش کا انکشاف اور پھر قطر میں کا نمائندہ دفتر کھولنا، امریکہ کی طرف سے قطر کے اس اقدام کی تعریف اور بالآ قطر ہی میں امریکہ و کے درمیان دوطرفہ مذاکرات کا انعقاد اس امریکی خواب کی واضح علامت ہے کہ  امریکہ گویا سعودی عرب کو منظر سے ہٹا کر خطے میں قطر کو اپنے پولیس مین کا عہدہ سونپنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ آل سعود کی حکومت اس امریکی ـ قطری رجحان پر سخت ناراض ہے چنانچہ اس نے عالم کفر و استکبار کی نسبت اپنے خلوص کے اثبات کے لئے اور امریکہ کی خدمت اور عالم بالخصوص تحریک مزاحمت کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے بڑے بڑے قدم اٹھانے شروع کردیئے ہیں کیونکہ اسے خوف ہے کہ کہیں امریکہ اور کی غلامی کی بازی میں قطر کا آل ثانی خاندان آل سعود خاندان پر سبقت حاصل نہ کرے۔ اس وقت امریکہ قطر کے ذریعے سے مذاکرات کرنے کا پروگرام بنارہاہے۔جس سے اس نے افغانستان کی کرزئی حکومت کو بھی آگاہ نہیں کیا تھا جس پر حامد کرزئی بھی خاصا ناراض نظر آیا گو کہ امریکیوں نے انہیں چپ کرایا تاہم حامدکرزئی نے الگ سے سعودی عرب میں سے مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔امریکہ قطر میں کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور ان مذاکرات میں کرزئی حکومت کو شامل نہیں کررہا کیونکہ مذاکرات کا مقصد افغانستان میں قیام امن نہیں بلکہ کو ایک بار پھر اقتدار میں لانا یا ایک غالب قوت کے عنوان سے اقتدار میں شامل کرنا ہے اور یہ خدشہ بھی پایا جاتا ہے کہ امریکہ افغان کو مختلف ممالک میں سرگرم عمل دہشت گرد ٹولوں سے ہماہنگ کرکے ان سے ایک بار پھر اپنے ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتا ہے یا پھر کو ایران کے مد مقابل لاکر علاقے کے امن کو زک پہنچانا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لئے کو علاقے میں شیعیان آل محمد (ص) کے خلاف صف آرا کرنا چاہتا ہے چنانچہ ایسے منصوبوں میں کرزئی کا امریکہ متفق ہونا مشکل ہے کیونکہ حامد کرزئی امریکی مفادات کے لئے کوشاں ہوتے پوئے بھی علاقائی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلق کے اصول پر قائم ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ فرقہ واریت افغانستان اور ان کی اپنی حکومت کے مفاد میں نہیں ہے۔ جہاں تک سعودی عرب کا تعلق ہے تو اُ س کو اپنے وجود کی پڑی ہے اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں کہ امریکہ کیا کرنا چاہتاہے کیخلاف سازش میں مصروف ہے وہ تو بس چاہتا ہے کہ امریکہ ہمیشہ کی طرح اب بھی ی دنیا کے خلاف ریاض کو ہی استعمال کرتا رہے اور سعودی عرب کے لئے متبادل ڈھونڈنے سے باز رہے۔ بہر حال قطر اور سعودی عرب کے درمیان ارضی اختلافات کی تاریخ بہت پرانی ہے لیکن یہ دونوں حکومتیں امریکہ کے زیر اثر ہیں لہذا امریکہ نے کبھی بھی ان دو ملکوں پر مسلط دو نجدی خاندانوں کو آپس میں لڑنے نہیں دیا ہے اور اب اگر ان کے درمیان کوئی لفظی لڑائی اور سرد جنگ دیکھنے میں آرہی ہے تو وہ جنگ ہرگز امت کے مفادات کے حصول کے لئے نہیں ہے بلکہ امریکی غلامی کے بیشتر مواقع حاصل کرنے کے لئے ہے اور یہ مسابقت امریکہ کے لئے بہت اہم ہے کیونکہ اس سے پہلے امریکہ کا اہم ترین غلام آل سعود کا خاندان تھا چنانچہ وہ امریکی مفادات کے تحفظ کے حوالے سے کبھی اپنے ذاتی یا خاندانی مفاد کی بات بھی کیا کرتا تھا جبکہ مسابقت میں دونوں خاندان اپنا سب کچھ لٹا کر اور اپنا دین و ایمان اور حتی کہ خاندانی مفادات کو بھی قربان کرکے اپنے آقا کی خوشنودی کے لئے دوڑنے لگے ہیں۔ سعودی خاندان امریکہ کو اپنی خدمات یاددلا رہا ہے اور مزید وعدے دے رہا ہے تو قطر کا حکمران خاندان آل سعود کو تھکا ہارا اور بوڑھا خاندان قرار دے کر امریکیوں کو جتا رہا ہے کہ "اب امریکی مفادات کے تحفظ کے لئے ایک تازہ دم حکومت کی ضرورت ہے" اور اگر ایک طرف سے یہ مسئلہ عالم کے لئے اف اک ہے تو دوسری طرف سے امریکی، برطانوی اور ی بڑے خوش نظر آرہے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ مسلم اقوام کو تو امریکہ کے طویل المدت تسلط سے نجات چاہئے اور امریکہ سے نجات کا واحد راستہ آمروں، بادشاہوں اور غیر منتخب حکمرانوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے جس کے لئے ملتوں میں ی بیداری کی لہر اٹھ چکی ہے اور وہ دن دور نہیں جب امریکی خوشنودی کے لئے مسابقت میں مصروف پناہ ڈھونڈیں گے اور انہیں پناہ نہیں ملے گی حتی کہ ان کے آقا بھی ان کو پناہ دینے کے عمل کو اپنے مفاد کے خلاف سمجھیں گے۔ ۔۔۔۔۔

عنوان وبلاگ : نور الثقلین
برچسب ها : خلیجی ممالک کاامریکی غلامی پر جہگڑا؟ - امریکہ ,سعودی ,اپنے ,وہ ت ,امریکی ,مفادات ,امریکی مفادات ,اپنے مفادات ,کرنا چاہتا ,حاصل کرنے ,سلسلہ شروع
خلیجی ممالک کاامریکی غلامی پر جہگڑا؟ امریکہ ,سعودی ,اپنے ,وہ ت ,امریکی ,مفادات ,امریکی مفادات ,اپنے مفادات ,کرنا چاہتا ,حاصل کرنے ,سلسلہ شروع
معروف عالم دین اورجامعه عروه کےپرنسپل حجۃ ال و المسلمین علامه سید جواد نقوی کادهشت گردی ختم کرن
حجۃ ال و المسلمین سید جواد نقوی کا حالات حاضرہ پر  جمعہ  ۲۹ جنوری کو بمقام مسجد مفتی جعفر حسین جامعہ جعفریہ گجرانوالہ میں خطبہ

 اس وقت تمام انسانیت اور بالخصوص مسلمین کو جو مصائب اور خطرات د یش ہیں وہ سب تقویٰ نہ ہونے کی وجہ سے ہیں ،جو لوگ سیاست اور تعلیم میں ہیں یا جولوگ ملکی اور عالمی امور کو چلا رہے ہیں سب بے تقویٰ افراد ہیں ۔ہر طرف سے بے تقوائیت نے انسانی زندگی کوخطرے میں ڈال دیا ہے ، ی کو کوئی تحفظ نہیں ہے اور تحفظ کے لئے جو چارہ جوئی کرتے ہیں وہ مزید خطرات کو جنم دیتی ہے ،ابھی تک جتنے بھی لوگوں نے تحفظ کے لئے چارہ جوئی کی ہے اس نے مزید خطرات کو جنم دیا ہے۔


عنوان وبلاگ : نور الثقلین
برچسب ها : معروف عالم دین اورجامعه عروه کےپرنسپل حجۃ ال و المسلمین علامه سید جواد نقوی کادهشت گردی ختم کرن - تحفظ ,خطرات ,مزید خطرات ,چارہ جوئی ,جواد نقوی
معروف عالم دین اورجامعه عروه کےپرنسپل حجۃ ال و المسلمین علامه سید جواد نقوی کادهشت گردی ختم کرن تحفظ ,خطرات ,مزید خطرات ,چارہ جوئی ,جواد نقوی
هزارون سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے. ......بڑی مشکل سے هوتا هے چمن میں دیدہ ور پیدا.

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں شیخ نور محمد کے گھر پیدا ہوئے، ماں باپ نے نام محمد اقبال رکھا۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں ہی حاصل کی اور مشن ہائی اسکول سے میٹرک اور مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔

شعر و شاعری کا شوق بھی آپ کو یہیں پیدا ہوا اور اس شوق کو فروغ دینے میں آپ کے ابتدائی مولوی میر حسن کا بڑا دخل تھا۔

لاہور کے بازار حکیماں کے ایک مشاعرے میں انہی دنوں اقبال نے ایک غزل پڑھی جس کا ایک شعر یہ تھا۔

عنوان وبلاگ : نور الثقلین
برچسب ها : هزارون سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے. ......بڑی مشکل سے هوتا هے چمن میں دیدہ ور پیدا. - پیدا ,سیالکوٹ ,اقبال ,محمد ,محمد اقبال
هزارون سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے. ......بڑی مشکل سے هوتا هے چمن میں دیدہ ور پیدا. پیدا ,سیالکوٹ ,اقبال ,محمد ,محمد اقبال
کوئٹہ میں دہشتگردی، سول ہسپتال میں دھماکے سے وکلاء سمیت 70 افراد جاں بحق، 40 سے زائد زخمی
 دہشت گردی کے پے در پے واقعات سہنے والا کوئٹہ ایک بار پھر دہشت گردی کا نشانہ بن گیا۔ پہلے بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی، وکلاء میت لینے اسپتال پہنچے تو خودکش دھماکہ ہوگیا،

جس کے نتیجے میں 70 افراد جاں اور 40 سے زائد زخمی ہوگئے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے سول اسپتال کوئٹہ کا دورہ کیا اور دھماکے میں ہونے والے زخمیوں کی عیادت کی۔ اعلٰی بلوچستان ثناء اللہ زہری کا کہنا ہے کہ دھماکہ خودکش تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی میں را ملوث ہے، دہشت گرد آسان ہدف کو نشانہ بنا رہے ہیں، ان کے سامنے نہیں جھکیں گے، وہ جہاں بھی ہوں گے، انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ کوئٹہ کے سول اسپتال کے شعبہ حادثات کے بیرونی گیٹ پر دھماکے اور فائرنگ میں جاں بحق ہونے والوں میں وکلا کی تعداد زیادہ ہے۔ شہر کے تمام اسپتالوں میں ایمر نافذ کر دی گئی۔ افسوناک واقعات کے بعد پولیس کی نفری سول اسپتال طلب کر لی گئی۔

پیر کی صبح منو جان روڈ پر بلوچستان بار کے صدر بلال انور کاسی کی گاڑی پر نامعلوم افراد کی طرف سے فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئے۔ بلال انور کاسی کی میت سول اسپتال پہنچائی گئی تو وہاں ایک بار پھر دہشت گردوں نے اپنا وار کیا۔ اسپتال کے شعبہ حادثات کے بیرونی گیٹ پر جہاں وں کی بڑی تعداد جمع تھی، ایک زوردار دھماکہ ہوا، دھماکے کے بعد فائرنگ بھی ہوئی۔ دھماکے میں تقریباً آٹھ کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا اور بال بیئرنگ بھی استعمال کئے گئے۔ دھماکے کے نتیجے میں 70 افراد جاں بحق اور 40 سے زائد زخمی ہوگئے، جاں بحق ہونے والوں میں بلوچستان بار کے سابق صدر باز محمد کاکڑ سمیت بڑی تعداد میں وکلا، آج ٹی وی اور ڈان نیوز کے کیمرا مین بھی شامل ہیں۔ دھماکے سے اسپتال میں بھگدڑ مچ گئی۔ لوگ اپنی جان بچانے کے لئے بھاگتے نظر آئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد دی گئی اور شدید زخمیوں کو سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا۔ اسپتال کے باہر رقت آمیز مناظر ہیں، لوگ اپنے پیاروں کو تلاش کرتے رہے۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کوئٹہ کے سول اسپتال پہنچ گئے اور کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض اور سینیئر فوجی حکام ہمراہ سول اسپتال کا دورہ کیا اور دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی۔ آرمی چیف کو واقعے پر بریفنگ بھی دی جائے گی۔ اعظم نوازشریف بھی کوئٹہ کیلئے روانہ ہوگئے ہیں۔ اعظم نواز شریف کوئٹہ خودکش حملے کے زخمیوں کی عیادت کریں گے۔ صوبہ بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ ایک عرصے سے امن دشمنوں کے نشانے پر ہے، کوئٹہ میں سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد دہشت گرد حملوں میں جان گنوا چکی ہے۔ ڈاکٹرز، صحافیوں، اساتذہ سمیت شہر کی سول سوسائٹی کی بڑی تعداد دہشت گردی کا شکار ہوچکی ہے لیکن اس بار شہر میں دہشت گردی کی تازہ لہر میں دہشت گردوں نے کوئٹہ کی وکلاء برادری کو نشانہ بنایا۔ 

اعلٰی بلوچستان کہتے ہیں دھماکے میں ملوث افراد کو نہیں چھوڑا جائے گا، دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ ترجمان بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گرد اپنا وجود ثابت کرنے کیلئے ایسی کارروائیاں کر رہے ہیں، صوبائی حکومت نے تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا، سپریم کورٹ بار نے بھی ملک بھر میں سوگ کا اعلان کیا ہے۔ سانحہ کوئٹہ کے خلاف ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں وکلاء نے عد ی امور کا بائیکاٹ کر دیا جبکہ کل وکلا یوم سوگ منائیں گے۔ پا تان بار سل کا 3 روزہ سوگ کا اعلان کر دیا، سوگ کا اعلان ممبر پا تان بار سل چودھری اشتیاق احمد خان نے کیا۔ ادھر چمن میں کوئٹہ بم دھماکے کے سوگ میں شہر بھر میں دکانیں مارکیٹ اور بازار بند ہوگئے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کی اپیل پر شہر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

 

عنوان وبلاگ : نور الثقلین
برچسب ها : کوئٹہ میں دہشتگردی، سول ہسپتال میں دھماکے سے وکلاء سمیت 70 افراد جاں بحق، 40 سے زائد زخمی - کوئٹہ ,دھماکے ,اسپتال ,دہشت ,بلوچستان ,اعلان ,دہشت گردی ,دہشت گردوں ,زائد زخمی ,انور کاسی ,بلال انور
کوئٹہ میں دہشتگردی، سول ہسپتال میں دھماکے سے وکلاء سمیت 70 افراد جاں بحق، 40 سے زائد زخمی کوئٹہ ,دھماکے ,اسپتال ,دہشت ,بلوچستان ,اعلان ,دہشت گردی ,دہشت گردوں ,زائد زخمی ,انور کاسی ,بلال انور
سعودی عرب انسانیت کے خلاف بھیانک جرائم کے ارتکاب میں بہت زیادہ گستاخ ہوگیا ہے
اہل بیت(ع) نیوز ای ۔ ابنا ۔ کی ورٹ کے مطابق  ی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے یمن پر سعودی عرب کے ہولناک اور بھیانک جرائم پر عالمی اداروں اور تنظیموں کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن میں انسانیت اور بشریت کے خلاف ہولناک اور بھیانک جرائم کے ارتکاب میں سعودی سعودی عرب بہت زیادہ گستاخ ہوگیا ہے اور وہ یمن میں اسپتالوں ، مدارس اور مساجد کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنا رہا ہے۔

ترجمان نے یمن کے اسپتال پر سعودی عرب کی مجرمانہ بمباری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا غیر فوجی ، سول ٹھکانوں اور شہری آبادی پر سعودی عرب کی وحشیانہ بمباری جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہے اور سعودی عرب کو اپنی مجرمانہ کارروائیوں کا تاوان ادا کرنا پڑےگا۔

ترجمان نے صوبہ حجہ کے عبس علاقہ میں اسپتال پر سعودی عرب کی ظالمانہ بمباری کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی خاموشی کے سائے میں سعودی عرب یمن کے نہتے اور بےگناہ عربوں کو اپنی بربریت اور جارحیت کا نشانہ بنا رہا ہے۔

ایرانی ترجمان نے یمن میں سل کی دوبارہ بحالی اور یمنی پارلیمنٹ کی دوبارہ فعالیت کے اقدام کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یمنی عوام کے نمائندوں کے اس اقدام سے سعودی عرب کو شدید غصہ ہے جس کے بعد وہ اسپتالوں اور سول آبادی پر وحشیانہ بمباری کرکے جرم و جنایت کا ارتکاب کررہا ہے۔واضح رہے کہ سعودی عرب نے عبس میں واقع ایک اسپتال پر بمباری کرکے 25 افراد کو شہید اور متعدد کو زخمی کردیا تھا۔تصاویر جنایت باورن ی عربستان سعودی

تصاویر جنایت باورن ی عربستان سعودی

تصاویر جنایت باورن ی عربستان سعودی

عنوان وبلاگ : نور الثقلین
برچسب ها : سعودی عرب انسانیت کے خلاف بھیانک جرائم کے ارتکاب میں بہت زیادہ گستاخ ہوگیا ہے - سعودی ,بمباری ,ہوئے ,ترجمان ,کرتے ,جرائم ,کرتے ہوئے ,بھیانک جرائم ,بمباری کرکے ,مذمت کرتے ,وحشیانہ بمباری
سعودی عرب انسانیت کے خلاف بھیانک جرائم کے ارتکاب میں بہت زیادہ گستاخ ہوگیا ہے سعودی ,بمباری ,ہوئے ,ترجمان ,کرتے ,جرائم ,کرتے ہوئے ,بھیانک جرائم ,بمباری کرکے ,مذمت کرتے ,وحشیانہ بمباری
منقبت رئوف حضرت علی ابن موسی الرضا علیه السلام
 

شاعر : جناب ناطق علی پوری صاحب
عطا ہو فکر رسا کو یا رب رضا  کی مدح ثنا کا سایہ 
میں واسطہ دے رہاہوں اس کا نہیں تھا جس مصطفی  ۖکا سایہ
                                         زمین ایران پر جو پایا مری نظر نے رضا کاسایہ          
                               کہیں پہ دیکھا نجف کا سایہ کہیں ملا کربلا کا سایہ          
کلام رب کے ہر ایک قاری سے کہہ رہی ہے زمین مشہد
یہاں بھی ہے انما کا سایہ یہاں بھی ہے ھل اتی کا سایہ
                              مری نگا ہوںکے سامنے  ہیں حیات افزا حسیں مناظر       
                               جبین فطرت کی سادگی پر اتر رہا ہے رضا  کا سایہ   
رضائے حق کا یہ میکدہ ہے کوثر عطا ہو یا رب
ہمارے دل میں رہے ہمیشہ خمار روز جزا کا سایہ
                           شعور مدحت بفیض مولافصیل ہستی پہ ضوفشاں   
                          جدھر ٹھہرتی ہیں یہ نگاہیں ادھر ہے صدق و صفا کا سایہ     
  ہےتری مودت کے آئینے میں بقا کے چہرے چمک رہے ہیں
ہے تیری سیرت کا گوشہ گوشہ طہارت فاطمہ  کا سایہ
                                ہوا ہے مولا کے در پہ حاضر غلام بن ک ھر آج ناطق
                                خدایا س ہ رہے ہمیشہ رؤف کی ہر عطا کا سایہ
عنوان وبلاگ : نور الثقلین
برچسب ها : منقبت رئوف حضرت علی ابن موسی الرضا علیه السلام - سایہ
منقبت رئوف حضرت علی ابن موسی الرضا علیه السلام سایہ
نذرانه عقیدت حضرت معصومه سلام الله علیها کےحضور

                                                       

                            تیرا کرم تیر ےدر کی عطا سبحان اللہ                                     

                              تیرے دیار کی آب و ہوا سبحان اللہ

                                                                   موسی کاظم کی یادگار ہے تو

                                                                  حسینیت کے گلستان کی بھار ہے تو

                          غموں کے ماروں کو آکر یھاں س ملا

                          زادی ہے تو همشیرای رضا                  

                                                                  ہے نام فاطمہ تیرا لقب ہے معصومہ

                                                                   یہاں پہ ہوتا ہے تقسیم علم کا صدقہ

                   تیرے حرم میں جو ایک بار آیا معصومہ

                   لپٹ کے جالی سے رویا تو اس کو ایسا لگا

                                                                ی یتیم کو جیسے کہ ماں کاپیار ملا

                                                                دعائیں مانگیں تو پایا حسین کا صدقہ

                    نہیں ہے جس کا کوئی اس کا آسرا تو ہے

                      کئی وں کی مانگی ہوئی دعا تو ہے

                                                               رسول پاک نے چودہ سو سال پہلے کہا تھا

                                                               یهان قم آشیانہ آل رسول کا بنےگابخدا

                 یہاں بروان هو گا صدا میرے علم کا دریا

                یہاں چلے گا صدا هم آل عباء کا سکہ

                                                        یہاں کبھی کوئی آ نہیں سکتا

                                                        چراغ قم کوئی طوفاں بجھا نہیں سکتا

               الہی گلشن قم میں خزاں نہ آئے کبھی

                کوئی یزید زمانہ یہاں نہ آئے کبھی

                                                  ہیں جس کی چاہ میں خود منزلیں وہ راہی ہیں

                                                    آ ا مان کے لشکر کے ہم سپاہی ہیں

                    گلی گلی میں عزا خانے ہیں بنائے ہوئے

                     ہیں مسجدوں میں ی صفیں بچھائے ہوئے

                                                                    یہاں پہ ہوتی ہے دن رات تعزیہ داری

                                                                    یہاں دعاوں میں ہوتی ہے گریہ و زاری

                       یزیدیوں کو زمانے سے ہم مٹائیں گے

                       دیار امن و اماں قم کو ہم بنائیں گے

                                                 ہمیشہ پرچم فقاهت عصمت وطهارت اٹھائیں گے

                                                 چهنکاری کفرو عنادو جهل وضل کو ہم بجھائیں گے

عنوان وبلاگ : نور الثقلین
برچسب ها : نذرانه عقیدت حضرت معصومه سلام الله علیها کےحضور - یہاں ,کوئی , ,کبھی ,نہیں ,نہیں سکتا
نذرانه عقیدت حضرت معصومه سلام الله علیها کےحضور یہاں ,کوئی , ,کبھی ,نہیں ,نہیں سکتا
اخرین جستجو ها
نمونه سؤال های درس به درس مطالعات اجتماعی کلاس نهم درس سیزدهم ت ست وچهارم انشا سنجش و مقایسه کتاب و انسان مزایا معایب سواد رسانه ای مرگ 5 تن در سیل‌های اخیر انشا مقایسه بین دو چیز جمع آوری کمکهای نقدی و غیر نقدی برای زائرین اربعین انشایی باران با قالب ذهنی فرمول ریاضی ششم اختلاف و مجموع انشا درمورد مقایسه قلم با خون شهیدان عبدشمس امیه سابقه مدرک واجد شرایط شرکت بازار مسابقه طراحی و نقاشی با موضوع آزاد کشتی شهرستان مربیان مربیان کشتی کشتی شهرستان کنترل سالیانه کلاس کنترل کلاس کنترل سالیانه زمان پخش بازی تراکتور و سیاه جامگان انشا درباره ی ناخن شادترین مردم جهان در کدام کشورها زندگی می‌کنند؟ باز آفرینی ضرب المثل تو نیکی میکن و در دجله انداز انشا درباره بیابان بر گرفته از جانشین سازی نخستین بازگویی دیدگاه رستم اظهار نظر پس از دیدن اسپندیار آغاز هفته کتاب و کتابخوانی نمونه دست سازه های ریاضی در جشنواره خوارزمی زند جدید تجربه موقت کلاس فلسفه اخلاق عد جلسه دهم خواب با روز ها تعطیل با شب امتحانانشاع مقایسه ی پاسخ آزمون امیدان سال انشایی ذهنی در مورد مقایسه کوه و پدر ⭐️ ی نیست، دیگران احمق شناسی ت hafezdivan blogpars http hafezdivan http hafezdivan blogpars انشایی ذهنی درمورد خورشید با روش ناسازی معنایی هواشناسی گرمی ایستگاه تهیه گزارش اداره هواشناسی گرمی ایستگاه هواشناسی دیدبانی هواشناسی اداره هواشناسی هواشناسی کشور 4745 گزارش دیدبان jenelle evans is engaged again see all the ‘teen mom 2’ star’s rings تئاتر تلویزیونی یوسف بازیگر بازی زارعی مجموعه تلویزیونی علیه السلام کوروش زارعی یوسف انشا مقایسه دوست و دشمن خیلی دوست روضه پرستیژ دوستان پرستیژ مدیریتی مقدم داشتن دیگران توانید مدیریت انشا وقتی به چشمانت مینگرم انشا درباره مقایسه کتاب با دوست بانوان بسکتبال فیبا برون مرزی بسکتبالیست بانوان بسکتبالیست بسکتبال بانوان برون مرزی فدراسیون جهانی خطرساز نبودن فدراسیون جهانی بسکت دانش آموز کاهش تمرکز همین دانش آموز میزان تمرکز اناری ترک خورد... انشا به روش جانشین سازی در مورد گل یا درخت انشایی در مورد مقایسه انسان با درخت به صورت ذهنی انشا ذهنی جانشین سازی رد باره پنجره ماده آنژیوگرافی بیمار کاتتر کنتراست تزریق ماده کنتراست قلبی عروقی وجود دارد احتمال آسیب بیمار بررسی هوای بندرعباس اپیکانتوپلاستی کانتوپلاستی جانبی مساجد کشور کنند؟ مساجد کشور ائمه جماعات اعمال شب و روز نیمه شعبان با استفاده از سایت تبیان سایت اینترنتی سرشماری نفوس مسکن سال داستان صورت کوتاه داستان کوتاه ردیاب gravitator گفت چرا نهان کنی عشق مرا چو عاشقی شب پنجم ـ عبدالله بن حسن علیه السلام انشا درمورد کفش کلاس هفتم 95 موضوع کفش سرگذشت یک کفش مهمترین امتیازات بیمه‌ های عمر و سرمایه گذاری سازه های پیچ ومهره ای انشا کفش هفتم نتایج آزمون همیار مرحله اول دانش آموزان برتر تدبر لازم واجب است هفته میشه خیلی خونه افطاری خوابگاه فرا رسیدن ماه محرم و شهادت حسین ع و یارانش تسلیت باد متن انشا در مورد مقایسه دو چیز به صورت ذهنی قطب صنعتی و گردشگری استان همچنان بدون پایانه فاسد شدنی کالاهای فاسد دستگاه طلاکوب تمام طلاکوب بوده باعث دستگاه طلاکوب قطعات دستگاه دستگاه طلاکوب دیجیتال طلاکوب دیجیتال دستگاه طلاکوب دیجیتال دست مدال نقره پار المپیک بر گردن حامد ی در رشته دوومیدانی پرتاب وزنه کلاس f۵۵ جواب فعالیت های درس تفکر سواد رسانه ای بهترین روز روابط دندان خنجری هفت رویکرد خلاقانه در درجه‌های سختی بازی‌ها تحقیق در مورد اخلاق کاربردی و حسنه 105 ص کتاب ارسالی نهاد کتاب ارسالی فهم خود از ضرب المثل تو نیکی میکن ودر دجله اندازدر یک بند بنویسید آیین نامه تحریر دفاتر قانونی گوگل اپلیکیشن ذخیره دسترسی نوشته هاتون نوشته هاتون دسترسی پیدا درایو ذخیره گوگل درایو دسترسی داشته گوگل درایو ذخیره من از جغرافیای کوه فهمیدم چیستان آن چیست رنگش بنفشه اسمش نام یکی از مقایسه قلم با خون شهید از روش سنجش و مقایسهیک متن ذهنی تحقیق در مورد 12 اصل شیمی سبز نمونه تستهای تئوری حسابداری 1برگرفته از کتاب شباهنگ متن انشا ذهنی به کمک روش سنجش و مقایسه لباس بومی پوشاک اردبیل محلی مناطق لباس بومی بومی محلی مناطق روستایی جامعه‌شناس اردبیلی معرفی لباس میراث فرهنگی استان تنها اقدام فره تکنولوژی جدید hdcvi و hdtvi نگارش انشا جانشین سازی درباره پنجره دیکته دیکته شماره انشا مقایسه رفتگر با آب با روش سنجش ومقایسه ان ت وحدت ملی افغانستان برای کامپرو مایز ملاقت د 17 اگوست گوگل استفاده آلرت مورد جدید کلمه گوگل آلرت آلرت چیست استفاده جالب کاربردهایی دارد؟ نمونه استفاده کارگاه مقاله تشکیل شرکت آبان مقاله نویسی کارگاه کاربردی کارگاه مقاله نشانه خمره خو ده در گنج و دفینه محمد عماد خمره درگنج تحقیق جوش جوشکاری بیا متفاوت باشیم در راه لیلی شدن3 ان آبادغرب حفاری شهرستان باند آبادغرب میراث فرهنگی نتایج مسابقات علمی و عملی هنرستانهای فنی و حرفه ای انشاء درباره ی علم و ثروت با استفاده از سنجش ومقایسه یک متن ذهنی هدایت تحصیلی شغلی انشا درمورد مقایسه آیینع با چهره
Facebook Twitter Google Plus Digg Share This RSS
کلیه فعالیتهای وبلاگ724 تابع قوانین جمهوری اسلامی ایران میباشد. تمامی اطلاعات، خبرها و مقالات بصورت خودکار از سایت ها و وبلاگهای فارسی دریافت و با ذکر منبع نمایش داده می شوند و وبلاگ 724 هیچگونه مسئولیتی در قبال محتوای آنها ندارد. در صورت مشاهده هر نوع تخلف یا محتوای نا مناسب بر روی دکمه “درخواست حذف وبلاگ” در آن صفحه کلیک نمائید.
All rights reserved. © weblog724 2012-2017 Run in 1.098 seconds
RSS